12 اکتوبر 2014 - 12:06
رہبر انقلاب نے ولایت کے راستے کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا

ولی امر مسلمین کے عنوان سے رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران ،سیاسی اور مذہبی میدان میں امت اسلام کی اصولی جدوجہد میں ایک عظیم اور خاص شاخص اور پہچان کی حیثیت رکھتے ہیں: ابوشریف

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ ایران میں جہاد اسلامی فلسطین کے نمایندے ناصر ابو شریف نے میڈیا کے ساتھ ایک گفتگو میں اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ولایت کی راہ و روش کے تحفظ میں آیۃ اللہ خامنہ ای کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،اظہار خیال کیا :ولی امر مسلمین کے عنوان سے رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران ،سیاسی اور مذہبی میدان میں امت اسلام کی اصولی جدوجہد میں ایک عظیم اور خاص شاخص اور پہچان کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ قائد انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای نے ہمیشہ مسئلہء فلسطین کو امت اسلامی کی جدوجہد کا اصلی محور قرار دیا ہے اور دے رہے ہیں ،تصریح کی :میں اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ،رہبر انقلاب اسلامی کی طول عمر اور جدو جہد کے دوام کی آرزو اور ان کے لیے صحت وسلامتی کی دعا کرتا ہوں ۔

ایران میں جہاد اسلامی فلسطین کی تحریک کے نمایندے نے مزید کہا :جہاد اسلامیء فلسطین کی تحریک میں ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ فلسطین اور دنیا کے مختلف علاقوں میں ولایت کے راستے کو پہچنوانے میں رہبر معظم انقلاب کا کردار انتہائی اہم ہے ۔

ابو شریف نے ملت ایران اور حکومت ایران کی طرف سے فلسطین کے عوام کی مدد کرنے کی قدر دانی کرتے ہوئے اظہار خیال کیا : ہماری ملت فلسطین نےملت ایران کی دعائے خیر اور معنوی حمایت کو ہمیشہ اپنے ساتھ محسوس کیا ہے اور یہی چیز پوری امت عربی اور اسلامی کے شامل حال بھی ہو نا چاہیے کہ وہ بھہی اسی طرح ملت فلسطین کا ساتھ دیں ۔

انہوں نے واضح کیا :ملت ایران کی حمایت کے ساتھ پوری امت اسلامی کو چاہیے کہ ملت فلسطین کی حمایت کریں اس لیے کہ غزہ میں ہمیں بھیانک حوادث اور مشکلات کا سامنا ہے ۔

ایران میں تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے نمایندے نے اس سوال کے جواب میں کہ اگر صہیونی حکومت فلسطین کو ایک مستقل ملک کی حیثیت سے تسلیم کرتی ہے تو آپ کا موقف کیا ہو گا ؟اظہار خیال کیا : اسرائیل کسی بھی نوعیت کی فلسطینی حکومت کی تشکیل کی اجازت نہیں دے گا ،شاید وہ سیاسی ڈھانچے کو قبول کر لے لیکن یہ ڈھانچہ ایک بڑے جیل خانے کی مانند ہوگا کہ جس کی زمین و آسمان پر کوئی حکومت نہیں ہو گی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲